شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے زیر انتظام علاقے سیوٹا میں ہزاروں تارکین وطن کے داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 72 ہوگئی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک تارکین وطن افراد کی تعداد 72 ہوگئی، ہلاکتیں تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے اور ہجوم میں کچلے جانے سے ہوئیں۔
بدھ اور جمعے کے دوران مراکش سے 60 ہزار افراد زمینی اور سمندری راستے سے اسپین کے زیر انتظام علاقے سیوٹا میں داخل ہوئے تھے۔
ہسپانوی حکام کے مطابق جمعرات سے اب تک مراکش سے 50 ہزار سے زائد افراد سیوٹا میں داخل ہوئے جن میں سے 48 ہزار 300 افراد رضاکارانہ طور پر واپس جا چکے ہیں۔
اسپین جانے والی کشتی کو حادثہ، 44 پاکستانی سمیت 50 تارکین وطن ہلاک

مراکشی حکام کا کہنا ہے کہ کشتی میں 66 پاکستانیوں سمیت 86 تارکین وطن سوار تھے۔

حکام کے مطابق بعض تارکینِ وطن سمندر میں ڈوب گئے تھے جبکہ کچھ افراد سرحدی باڑ کے قریب بھگدڑ اور ہجوم میں کچلے جانے سے جان کی بازی ہار گئے۔
حکام کے مطابق یہ حالیہ آمد مئی 2021 کے بحران سے بھی کہیں بڑی تھی، جب صرف دو دن میں تقریباً 12 ہزار افراد مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے تھے۔
کشتی حادثے میں جاں بحق 5 افراد کا تعلق گجرات کے ایک ہی گاؤں سے تھا

زاہد کے اہلخانہ نے بتایا کہ انسانی اسمگلرز تمام افراد کو موریطانیہ کے ویزوں پر مختلف ایئرپورٹس سے لیکر گئے تھے، موریطانیہ میں ان افراد کو ایک سیف ہاؤس میں رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سیوٹا 1580 سے اسپین کے زیرِ انتظام ہے اور میلیلا کے ساتھ افریقی سرزمین پر یورپی کنٹرول کے حامل دو علاقوں میں سے ایک ہے۔
یہ علاقہ اسپین اور یورپی یونین میں پناہ کے متلاشی افراد اور تارکینِ وطن کے لیے اہم داخلی راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سخت سرحدی باڑ، نگرانی کا جدید نظام اور ہسپانوی سیکیورٹی فورسز مستقل تعینات رہتی ہیں۔