World
غزہ سے انخلاء پر اسرائیل میں سیاسی ہلچل، نیتن یاہو شدید دباؤ کا شکار
غزہ میں حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کے بعد سامنے آنے والے مجوزہ معاہدے نے اسرائیل میں سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔
70K reads

غزہ میں حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کے بعد سامنے آنے والے مجوزہ معاہدے نے اسرائیل میں سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔
معاہدے میں اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء اور اقتدار مرحلہ وار ایک فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے سے ’بہت خوش‘ ہے تاہم اسرائیلی حکومت نے تاحال باضابطہ مؤقف نہیں دیا۔
غزہ معاہدہ: نیتن یاہو کا ٹرمپ کی مخالفت سے گریز، فوجی انخلاء پر ہچکچاہٹ برقرارامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے باعث اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے لیے امریکی صدر کی کھل کر مخالفت کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے تاہم اسرائیل فوجی انخلاء سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ حماس کے ’حقیقی طور پر غیر مسلح‘ ہونے سے قبل اسرائیلی فوج اپنی موجودہ پوزیشنز سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل میں کئی سیاست دان اور عوامی حلقے غزہ سے انخلاء کے سخت مخالف ہیں، اکتوبر 2023ء کے حملے کے بعد اسرائیلی معاشرے میں سخت گیر مؤقف مزید مضبوط ہوا ہے جبکہ مختلف سرویز کے مطابق بڑی تعداد میں اسرائیلی غزہ کے فلسطینیوں کے انخلاء کی حمایت کرتی ہے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے معاہدے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں اور غزہ سے فلسطینیوں کی ہجرت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
دوسری جانب سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ نے بھی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس کی عسکری اور سیاسی طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی تو جنگ کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں امن کے 20 نکاتی منصوبے کے اہم نکات کیا ہیں؟امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے انخلاء کرے گی۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں شامل کیے گئے ماہرین کے تجزیے کے مطابق وزیرِ اعظم نیتن یاہو آئندہ انتخابات سے قبل مشکل سیاسی صورتِ حال سے دوچار ہیں، ان کے لیے ایک طرف اپنی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کو مطمئن رکھنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ناراض نہیں کرنا ہو گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو علامتی طور پر فوجی نقل و حرکت دکھا سکتے ہیں لیکن مکمل انخلاء کا امکان انتہائی کم ہے کیونکہ یہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی، نظریاتی مؤقف اور انتخابی مفادات کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ادھر امریکی حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل معاہدے پر عمل درآمد نہ کرے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت مایوسی کا اظہار کر سکتے ہیں جس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے آئی سی سی پراسیکیوٹر کریم خان کو عہدے سے ہٹانے کیلئے کیا سازش کی؟اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے آنجہانی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے ساتھ مل کر آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو عہدے سے برطرف کرنے کے لیے سازش کی تھی۔
اسرائیلی امور کے ماہرین کے مطابق نیتن یاہو ماضی میں بھی ایسے دباؤ کو سیاسی طور پر سنبھالتے رہے ہیں تاہم موجودہ حالات میں ان کے لیے غزہ سے مکمل انخلاء پر آمادہ ہونا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے بلکہ امکان یہی ہے کہ انتخابات سے قبل وہ مزید سخت مؤقف اختیار کریں۔
Share