پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 جولائی ۔2026 ) خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی سیاحت ملک عدیل اقبال کی جانب سے وزیراعلی کو پیش کی جانے والے سفارشات کے بعد گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل فواد خان‘ڈائریکٹرایڈمن نورالحق اور ڈائریکٹربلڈنگ کنٹرول فرخ جدون نے انکوائری سے بچنے کے لیے چیف سیکرٹری خیبرپختون خوا کو ”ذاتی وجوہات“ کی بنا پر ٹرانسفرکرنے کی درخواست کردی ہے . گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تینوں اعلی افسران نے ایک ہی درخواست پر دستخط کرکے چیف سیکرٹری کے پی کے کو ارسال کی ہے جو پروٹوکول کے خلاف ہے‘قواعد کے مطابق تبادلے کی درخواست ہر افسرانفرادی طورپر کرتا ہے تین افسران کی اجتماعی درخواست خلاف ضابط ہے‘ادھر کے پی کے حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ معاون خصوصی ملک عدیل اقبال کی سفارشات کی روشنی میں ان تینوں افسران کو ہٹانے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا تھا تاہم شرمندگی سے بچنے کے لیے جی ڈی اے کے تینوں اعلی افسران نے جلدبازی میں ایک ہی مضمون کی درخواست پر دستخط کرکے چیف سیکرٹری خیبرپختون خوا کو ارسال کردی. بتایا گیا ہے کہ معاون خصوصی سیاحت ملک عدیل اقبال نے گلیات میں تجاوزات اور غیرقانونی طورپر تعمیرہونے والی ہائی رائز عمارتوں کی تعمیر پر بازپرس کی جس پر ڈی جی فواد خان سمیت گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران تسلی بخش جواب نہ دے سکے‘اپنی درخواست میںڈائریکٹر جنرل گلیات، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول نے چیف سیکرٹری سے تبادلے کی استدعا کی ہے‘بتایا گیا ہے کہ چیف سیکرٹری آفس کو جی ڈی اے کے تینوں اعلی عہدیداروں کی جانب سے ای میل کے ذریعے ارسال کردہ تبادلے کے لیے مراسلہ موصول ہوچکا ہے. مراسلے میں ڈائریکٹرجنرل فواد خان اور دیگر افسران نے ایک صفحے پر اپنی ”کارکردگی“کو بیان کیا ہے جبکہ اپنی گزارشات میں انہوں نے کہا ہے کہ گلیات اتھارٹی کے قانونی فریم ورک میں ابہام سے ذمہ داریاں انجام دینے میں مشکلات ہیں. ان کا کہنا ہے کہ حالیہ فیلڈ وزٹ کے دوران سوشل میڈیا پر عوامی ریمارکس سے انتظامیہ کے کام کو متاثر کیا ہے، ادھر جی ڈی کے ایک اعلی افسرنے نام ظاہرنا کرنے کی شرط پر بتایا کہ سوشل میڈیا پر لوگ روزجی ڈی اے حکام کو گالیاں دیتے ہیں کوئی بھی آفیشل اکاﺅنٹس پر جاکر چیک کرسکتا ہے‘انہوں نے کہاکہ اصل مسلہ کارکردگی ہے ‘ ڈائریکٹر جنرل فواد خان اور ان کے ساتھی افسران ڈائریکٹرایڈمن نورالحق اور ڈائریکٹربلڈنگ کنٹرول فرخ جدون نے خوف کی ایک فضاءقائم کررکھی تھی اور اپنی ڈی جی شپ کے دوران انہوں نے ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے . انہوں نے بتایا کہ جی ڈی اے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس پر ہر پوسٹ کے نیچے مقامی لوگوں اور سیاحوں کی جانب سے تنقید اور گالیاں نظرآتی ہیں مگر سوشل میڈیا پر ملنے والے فیڈبیک کی انہوں نے پہلے کبھی پرواہ نہیں کی‘انہو ں نے کہا کہ اصل معاملہ غیرقانونی ملٹی سٹوری بلڈنگ کا ایشوہے جسے ”اروپوائنٹ“ نے بڑے اچھے اندازمیں اجاگر کیا. انہوں نے کہاکہ غیرقانونی ملٹی سٹوری بلڈنگزاور چھانگلہ گلی ریسٹ ایریا کی پانچ کنال سے زیادہ زمین الاٹ کرنے اور اس پر ہوٹل کی تعمیر سمیت اس طرح کے معاملات پر اعلی سطحی انکوائری کمیٹی بنتی جیسا کہ معاون خصوصی عدیل ملک چاہ رہے تھے تو ان تینوں اعلی افسران کو جیل جانا پڑتا انکوائری سے بچنے کے لیے یہ خودٹرانسفرکرنے کی درخواست کررہے ہیں.