حالیہ مون سون کے دوران ہونے والی زیادہ تر اموات کچے مکانات گرنے اور تعمیرات کو نقصان پہنچنے کے باعث ہوئیں،این ڈی ایم اے کے اجلاس کو بریفنگ
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اگست2026ء) وزیراعظم کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر جاری ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دسواں اجلاس این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) می

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اگست2026ء) وزیراعظم کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر جاری ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دسواں اجلاس این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں منعقد ہوا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ وفاقی و صوبائی حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متعدد نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے ڈائریکٹر (پلاننگ اینڈ کوآرڈینیشن/ریسکیو) نوید احمد شیخ نے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین این ڈی ایم اے اور این ای او سی ٹیم نے ملک بھر میں مون سون کی صورتحال، جانی و مالی نقصانات، امداد و بحالی سرگرمیوں پر کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ متوقع بارشوں کے باعث تمام ممکنہ متاثرہ علاقوں کے ڈپٹی کمشنرز کو بروقت صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران نوید احمد شیخ نے کمیٹی کو بلوچستان میں مون سون بارشوں کے باعث ہونے والے نقصانات، امدادی و بحالی سرگرمیوں، ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (ڈی ڈی ایم ایز) اور پی ڈی ایم اے بلوچستان کے جاری رسپانس، نیز صوبے کی موجودہ موسمی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے عمل کو مؤثر اور تیز تر بنانے کے لیے اضافی وسائل اور ضروری سہولیات کی فراہمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔کمیٹی کو حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال اور متعلقہ وفاقی، صوبائی و ضلعی اداروں کے بروقت امدادی اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔این ای او سی نے آگاہ کیا کہ آئندہ دنوں میں شمالی و وسطی علاقوں جبکہ جنوب مشرقی سندھ کے بعض مقامات پر بھی بارش کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں میں قومی و بین الاقوامی فلاحی اداروں کے تعاون سے جاری ریلیف سرگرمیوں پر بھی بریفنگ دی۔این ڈی ایم اے ٹیم نے کمیٹی کو بتایا کہ حالیہ مون سون کے دوران ہونے والی زیادہ تر اموات کچے مکانات گرنے اور تعمیرات کو نقصان پہنچنے کے باعث ہوئیں۔اجلاس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی امدادی، ریسکیو اور بحالی کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطہ، پیشگی تیاری، امدادی کارروائیوں اور بحالی کے عمل میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کی۔
Share
ٹیگز