لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اگست2026ء) پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ایک جانب فیڈرل بورڈ آف ریو نیو کی جانب سے فکسڈ ٹیکس سکیم کے ذریعے 50 ارب روپے ریونیو اور 45 لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب فکسڈ ٹیکس سکیم کے بنیادی خدوخال ہی واضح نہیں جس سے اس کے ناکام ہونے کے خدشات موجود ہیں ، ایف بی آر اپنا اعتماد بحال کرنے کے ساتھ تاجروں کے تحفظات کو بھی دور کرے گی ۔ پاکستان ٹیکس بار کے صدر احسان الحق شیخ، جنرل سیکرٹری طاہر محمود بٹ، سینئر نائب صدر شیخ یاسین، نائب صدور شہباز قادر، عامر حنیف، رانا منظور حسین نے ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فکسڈ ٹیکس سکیم میں ریٹیلر، دکاندار اور مینوئلی ریٹیل آمدن کی تعریف تک واضح نہیں، ریٹیل و ہول سیل کاروبار کرنے والوں کی اہلیت بھی مبہم ہے جبکہ آڈٹ، ڈیکلریشن، ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ، ایڈوانس ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ اور ڈیفالٹ سرچارج سمیت اہم معاملات جواب طلب ہیں۔ دفعہ 153 کے تحت ودہولڈنگ ایجنٹ سے استثنیٰ اور دفعہ 113 کے عدم اطلاق کی سہولت ٹیکس ایئر 2026 کیلئے ہے یا 2027 کیلئے اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی،100 ملین روپے یا زائد ٹرن اوور رکھنے والے ٹیکس دہندگان کی جانب سے پہلے ادا کردہ دفعہ 147 کے ایڈوانس ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ بھی واضح نہیں، دفعہ 114 کے تحت ریٹرن جمع کرانے کا پابند نہ ہونے والے دکاندار پر خصوصی طریقہ کار اختیار نہ کرنے کی صورت میں ماہانہ ڈیفالٹ سرچارج کیسے عائد ہوگا،غیر رجسٹرڈ دکاندار کی ذمہ داری کا تعین کون کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے ان ابہامات کو دور کیے بغیر نئے تنازعات کا دروازہ کھل جائے گا جس سے محصولات کی وصولی کے ہدف کو شدید دھچکا لگے گا۔