لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اگست2026ء) آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے اعلی سطحی قومی بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت آرگینک کے شعبے کو فروغ دیا جا سکے ،پاکستان کو روایتی اجناس کی فصلوں کے ساتھ ساتھ زعفران، چیا سیڈ، چائے اور مختلف اقسام کے مصالحہ جات جیسی نئی اور زیادہ منافع بخش اجناس کی کاشت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ آرگینک شعبے کی ترقی کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بارہا مطالبات کئے جا چکے ہیںلیکن انہیں زیر غور نہیں لایا جارہا جس کی وجہ سے کسانوں کا اس جانب رجحان نہیں ہے ۔ دعویٰ ہے کہ آرگینک خوراک اور مصنوعات کی بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفکیشن اور ٹریسبلٹی یقینی بنا کر پاکستان عالمی منڈیوں میں اربوں ڈالر کی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔ نجم مزاری نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل تیزی سے زراعت سے دور ہو رہی ہے جس سے مستقبل میں زرعی شعبہ افرادی قوت کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ تجویز ہے کہ 40 سال تک عمر کے نوجوانوں کو سرکاری زرعی اراضی آسان شرائط پر لیز پر دی جائے اور انہیں بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ زراعت کی جانب راغب ہوں۔اگر نوجوانوں کو مناسب مراعات، جدید تربیت اور مالی سہولتیں فراہم کی جائیں تو نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوںنے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی، خوراک کے تحفظ اور برآمدات میں اضافے کے لیے بروقت فیصلے ناگزیر ہیں بصورت دیگر مستقبل میں ملک کو مزید معاشی اور زرعی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔