غیر ملکی خریدارپاکستان میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں، اعجاز الرحمان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 اگست2026ء) چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ غیر ملکی خریداروں کی رواں برس اکتوبر میں لاہور میں منعقد ہونے والی ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42و

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 اگست2026ء) چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ غیر ملکی خریداروں کی رواں برس اکتوبر میں لاہور میں منعقد ہونے والی ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش میں غیر معمولی دلچسپی انتہائی حوصلہ افزا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر برآمدی آرڈرز حاصل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ عالمی نمائش کی کامیابی کے لیے بھرپور سرپرستی اور تعاون فراہم کریں تاکہ پاکستان کی قدیم ترین برآمدی صنعت کو تقویت اوربرآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اعجاز الرحمان نے کہا کہ اس طرز کی بین الاقوامی نمائشیں برآمدات میں اضافے، عالمی تجارتی روابط کے فروغ، ثقافتی ورثے کے تعارف اور مقامی ہنرمندوں کو براہِ راست بین الاقوامی خریداروں سے جوڑنے کا موثر ذریعہ ہیں جن کے ذریعے نہ صرف ہر سال لاکھوں ڈالر کے برآمدی آرڈرز حاصل ہوتے ہیں بلکہ نئی منڈیوں تک رسائی بھی ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس طرز کی عالمی نمائش نہ صرف معاشی ترقی بلکہ نئے کاروباری مواقع، عالمی رجحانات سے آگاہی، جدید ڈیزائنز، ماحول دوست مصنوعات کے فروغ اور قومی تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی پلیٹ فارم مقامی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے اور طویل المدتی تجارتی شراکت داریوں کے قیام میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اعجاز الرحمان نے کہا کہ پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن گزشتہ 42 برس سے تسلسل کے ساتھ اس عالمی نمائش کا کامیاب انعقاد کر رہی ہے جو اپنی نوعیت کا منفرد اعزاز ہے اور پاکستان کی قدیم ترین برآمدی صنعت کی ترقی کے لیے حقیقی کاوشوں کا مظہر بھی ہے۔انہوں نے مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان پر زور دیا کہ عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نئی مصنوعات، منفرد ڈیزائنز، جدید رنگوں کے امتزاج، روایتی، کلاسیکی ڈیزائنز پر مبنی قالینوں کی وسیع ورائٹی پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ نمائش کے دوران ہاتھ سے بنے گرہ دار قالینوں کے مناسب ذخیرے کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ بین الاقوامی خریداروں کی طلب بروقت پوری کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ہاتھ سے بنی قالینوں کی صنعت دہائیوں پر محیط فن، مہارت اور ثقافتی شناخت کی علامت ہے،اگر حکومت، متعلقہ ادارے اور نجی شعبہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت اس صنعت کی سرپرستی کریں تو پاکستان ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ مزید بڑھانے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
Share
ٹیگز